ایک حکیم نے اپنی کتاب میں لکھا کہ اگر تر بوز کے فوری بعد دودھ پیا جاۓ توانتڑیوں میں شدید قسم کادر دپید ہ ہو تا ہے

ایک بادشاہ نے طبیب کو حکم دیا کہ ایک ایسی کتاب . لکھو جس میں ہر بیاری کا ذکر کیا گیا ہو ۔ طبیب نے کہا : اے بادشاہ سلامت میں کتاب لکھوں گا مگر مجھے اس کتاب لکھنے کے لیے وقت درکار ہو گا بادشاہ نے طبیب سے کہا کہ جتنا بھی وقت لینا ہے لے لو مگر یہ کتاب مجھے کتاب مجھے ہر صورت میں چاہئیے ۔

بادشاہ کے حکم کی تعمیل کی گئی اور کتاب لکھنے کا کام . شروع ہو گیا ۔ حکیم نے سب سے پہلے پیاریوں کے نام لکھے_ اس کے بعد ان بیماریوں کے وجوہات اور ان کا علاج لکھا گیا اور آخر میں دو متضاد چیزوں کو کھانے کے نقصانات لکھے گئے 3 سال کے عرصے میں کتاب مکمل کی گئی

بادشاہ کی خدمت میں جب وہ کتاب پیش کی گئی تو بادشاہ بڑا خوش ہوا اور کتاب کو تفصیل کے ساتھ پڑھنا شروع کیا آخر کار بادشاہ کتاب کے ایک ایسے صفحے پر پہنچا کہ جہاں دو متضاد چیزیں کھانے کے نقصانات لکھے ہوۓ تھے_ اچانک بادشاہ ایک ایسے صفحے پر پہنچا جہاں لکھا ہوا تھا کہ اگر تربوز کے بعد فوری طور پر دودھ پی لیا جاۓ تو انتڑیوں میں شدید قسم کا درد پیدہ ہوتا ہے ۔

بادشاہ نے دل میں سوچا یہ کیا بات ہوئی_ دودھ اوز تربوز دونوں صحت کے لیے مفید ہیں تو پھر تربوز کے بعد دودھ صحت کے لیے مضر کیوں ? بادشاہ نے حکیم کو دربار میں بلوایا اور کہا تم نے جو اس صفحے پر لکھا ہے اس کا عملی طور پر مظاہرہ کیا جاۓ گا ۔

اگر تمہاری یہ بات جھوٹ ثابت ہوئی تو تھے پوری پوری سزا دی جاۓ گی_ بادشاہ کے حکم پر ایک غریب کسان پر تجربہ کیا گیا کسان کو سب پہلے تازہ تربوز کھلایا گیا اور اس کے بعد دودھ پلایا گیا اب سب انتظار میں بیٹھ گرم گرم و کئے کہ کب کسان کو انتڑیوں کا درد شروع ہو

مگر دو گھنٹے گزر گئے اور کسان کو کچھ بھی نہ ہوا بادشاہ نے غصے سے حکیم کی طرف دیکھا اور حکم دیا کہ حکیم کو گرفتار کیا جاۓ اور سولی پر لٹکا دیا جاۓ حکیم نے کہا مجھے تین مہینے کی مہلت دی جاۓ اور اس کسان کو تین مہینے کے لیے میرے حوالے کیا جاۓ_ بادشاہ نے اسے تین مہینے کی مہلت دے دی

حکیم نے کسان کو شاہی کھانے کھلاۓ اور سونے کے لیے نرم بستر دیا اور شہزادوں کی طرح اس کی خدمت کی تین مہینے بعد حکیم نے کسان کو چیک کیا کہ کسان کا جسم نرم مزاج ہو گیا ہے یا نہیں_ حکیم نے ایک رات کسان کے بیڈ میں سے نرم گدا نکال دیا تو دوسرے دن کسان نے کہا کہ مجھے ساری رات نیند ہی نہیں آئی

حکیم سمجھ گیا کہ اب کسان کا جسم نرم مزاج ہو چکا ہے ۔ تین مہینے کے بعد حکیم نے بادشاہ کے سامنے کسان پر دوبارہ تجربہ کیا ۔ پہلے تربوز کھلایا گیا اور اس کے بعد دودھ پلایا گیا ۔ کچھ دیر بعد کسان درد سے چلانے لگا اور زمین پر لیٹ گیا ۔ بادشاہ نے حکیم سے پوچھا اس کی کیا وجہ ہے ?

حکیم نے کہا کہ آپ نے مجھے کتاب لکھنے کا حکم دیا تو میں نے ایک بادشاہ کی طرز زندگی کو دیکھتے ہوۓ کتاب لکھی تھی اس کسان کو میں نے تین مہینے تک آپ کی طرح عیش و عشرت دی جس کی وجہ سے کسان کا معدہ نرم مزاج ہو گیا ۔ حکیم نے کہا اگر اب بھی آپکو میری بات کا یقین نہیں ہو رہا تو آپ بھی تربوز کھا کر دودھ پی لیں_ _

اگر آپ کو کچھ نہ ہوا تو آپ مجھے قتل کر دینا_ . بادشاہ نے کسان کی طرف دیکھا جو درد سے زمین پر لیٹا ہوا تھا تو بادشاہ ڈر گیا کہ کہیں میری بھی حالت کسان کی طرح نہ ہو جاۓ_ بادشاہ نے حکیم کو بہت سارے انعامات سے نوازہ اور فوری طور پر کسان کا علاج کرنے کا حکم دیا

. اخلاقی سبق جو انسان آرام دہ زندگی گزارنے کا عادی ہو جاۓ وہ بہت ساری بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے_ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ محنت کرے اور اپنے جسم کو مضبوط بنا لے تاکہ وہ صحت مند رہ سکے_

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.