ایک دفعہ مجھے جنگل میں رات ہو گئی میں نے ایک جو نپڑی دیکھی اور

حضرت سیدنا عبد الہادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں لیے سفر پر تھا راستے میں ایک جنگل آیا اور مجھے جنگل میں ہی رات ہو گئی ۔ دور دور تک آبادی کا کوئی نام و نشان نہ تھا میں نے جنگل میں ہی رات بسر کرنے کا فیصلہ کر لیا اور آگ جلانے کے لئے میں لکڑیں تلاش کر رہا تھا کہ میری نظر ایک جونپڑی پر پے گئی ۔ میں جھونپڑی کی طرف گیا اور وہاں بلند آواز میں سلام کیا ۔ اندر سے ایک بے حد حسین لڑکی اور ایک

بوڑھی عورت باہر نکلی ۔ میں نے ان سے کہا کہ میں مسافر ہوں مجھے رات رکنے کے لیے جگہ اور کھانا چاہیے ، بڑھیا مجھے اندر لے گئی اس نے مجھے کھانا کھلایا اور لیٹنے کے لیے جگہ بھی دی ۔ اچانک رات کے پچھلے پہر میری آنکھ کھلی تو میری نیت حسین لڑکی اور بڑھیا کو دیکھ کر بدل گئی میں لڑکی کے پاس پہنچا جو مزے سے سو رہی تھی ۔ میرا ہاتھ ابھی لڑکی کی طرف بڑھا ہی تھا کہ اچانک ایک سمت سے گدھے کے

چیخنے کی آوازیں آنے لگیں میں نے ایسی خوفناک گدھے کی آواز پہلے نہیں سنی تھی میں فورا گدھے کی آواز کی طرف چل پڑا جہاں سے آواز آ رہی تھی ۔ میں وہاں پہنچا تو ایک عجیب و غریب منظر دیکھ کر حیران رہ گیا وہاں ایک قبر تھی جس میں ایک گدھا گردن تک فن تھا ۔ اس بیانک منظر کو دیکھ کر مجھ پر کچھی طاری ہو گئی میں وہاں سے واپس آ گیا اور ان دونوں ماں بیٹی کے پاس پانچ کر گدھے اور قبر سے متعلق پوچھا

تو انہوں نے کہا کہ تم اس گدھے کے متعلق نہ ہی پوچھو تو بہتر ہے ، میرے اصرار پر بڑھیا کہنے لگی اچھا اگر تم نے سننا ہی ہے تو سنو وہ گدھا جو تم نے قبر میں دفن دیکھا وہ میرا بیٹا اور اس لڑکی کا بھائی تھا قسم ہے اس ذات کی جس نے گزشتہ رات تمہیں یہ منظر دیکھایا میرا بیٹا میرا بہت زیادہ نافرمان تھا میں نے اس سے زیادہ ماں کا نافرمان بیٹا دنیا میں کوئی نہ دیکھا ۔ جب بھی میں اسے کسی بری بات سے منع کرتی تو وہ مجھ

سے اس طرح بدکلامی کرتا اور کہتا دفع ہو جا گدھی کی طرح چیخ و پکار کر رہی ہے جا مجھے تیری بات نہیں سنی ۔ آخر کار میں نے ایک دن تنگ آ کر کہا اللہ تجھے گدھے کی طرح بنا دے خدا کی قدرت ایسے ہوئی کہ جب میرے بیٹے کی وفات ہوئی اور ہم اور ہمارے رشتہ دار اس کو دفنا کر واپس لوٹ ہی رہے تھے کہ ہمیں اس قبر سے گدھے کی آوازیں آنے لگیں اور میرے بیٹے کی شکل بھی گدھے کی طرح ہو

گئی ۔ حضرت عبد الہادی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ ایک بیٹا اپنی ماں کو گدھی کہنے والا اب روزانہ اپنی قبر میں گدھے کی طرح چیختا رہتا ہے تو میرا کیا حال ہو گا جو میں زنا کی طرف مائل ہوا ۔ میں کیسا بدبخت ہوں کہ جس نے مجھے کھانا کھلایا اور رہنے کے لئے جگہ دی میں اسی ماں کی بیٹی کی طرف گندی ذہنیت سے جا رہا تھا ۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں اس بڑھیا کے قدموں میں گر گیا اور اس سے معافی

مانگنے لگا اور پھر چھ سال تک میں اس بڑھیا کی خدمت کرتا رہا ۔ حضرت عبد الہادی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب رحمت کا دریا میں فرماتے ہیں کہ میں ساری عمر شرمندہ رہا ۔ دوستوں سارے رشتے اس سکتے ہیں لیکن ماں اور باپ کا ایسا اپنے اس لہ پر رشتہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میں اگر ان کو کھو دے تو دوباره نصیب نہیں ہو گا خدا اپنے ماں باپ کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیں اس طرح اللہ

پاک آپ کے ہر کام کو آسان کر دے گا اور اللہ پاک سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں بدکاری جیسے کاموں سے محفوظ رکھے اور اچھے کام کرنے کی توفیق عطا کریں آئین ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *