ایک دن بیوی نے اپنے شوہر سے کہا کہ ہماری شادی کو کتنے سال ہو گئے ہیں

ایک دن میری بیوی نے عجیب سا شکوہ کیا کہنے لگی آپ بڑے ظالم ہیں ہماری شادی کو آٹھ سے نو سال گزر کئے ہیں لیکن آپ نے کبھی مجھے میکے میں رات نہیں گزارنے دی ۔ شوہر نے حیران ہو کر کہا کہ میں نے کب آپ کو وہاں رات رہنے سے منع کیا ہے ۔ آپ جائیں اور جتنا دل چاہے وہاں رہیں ۔ وہ خوش ہو کر بولی ٹھیک ہے پھر میں اگلے دودن میکے ہی رہوں گی ۔ لیکن آپ کا ناشتا اور آفس کی تیاری , دو پہر اور رات کا کھانا کون بنا کر دے گا ۔

شوہر نے جواب دیا کہ آپ کو تو پتا ہے کہ میں ہر طرح کا کھانا پکانے میں ماہر ہوں کپڑے بھی خود دھولیتا ہوں اور پریس بھی کرلیتاہوں۔ا گر کچھ زیادہ مسئلہ ہواتو بھائیوں کے گھر ساتھ ساتھ ہیں وہاں سے پینج ہو جاۓ گا ۔ آپ فکر نہ کر میں اور سکون سے میکے جائیں ۔ کچھ ضروری ہدایات کے بعد وہ میکے چلی گئی ۔ یادر ہے اس کے گھر کا فاصلہ سسرال سے آدھے کلو میٹر سے بھی کم تھا ۔

رات گزرگئی صبح کی نماز پڑھنے کے بعد شوہر نے واک کی اور پھر ناشتہ بنانے کا سوچ ہی رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔در وازہ کھولا تو سامنے بیگم صاحبہ تھی ۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرانگی کا جھٹکالگا کہ بیوی نے اتنی صبح سویرے واپسی کرلی ۔ میں نے پوچھا کہ خیریت تو ہے اتنی صبح سویرے واپسی آپ تور ہنے کے لیے گئی تھیں تو کہنے لگی کہ مجھے تو وہاں ساری رات نیند ہی نہیں آئی اسی فکر میں کہ

آپ اکیلے گھر میں رات کیسے گزار رہے ہوں گے صبح کاناشتہ کیسے بنائیں گے آفس کی تیاری کیسے کر یں گے آپ کو تواپنے کپڑوں اور جو توں کا بھی پتہ نہیں ہو تا۔شوہر بیوی کی باتیں سن کر مسکراۓ جار ہاتھا اور ساتھ ساتھ ناشتے کی تیاری بھی جاری تھی۔وہ سوچ رہا تھا کہ میری بیوی کو میری اتنی زیادہ فکر ہے ۔اللہ تعالی ہر میاں بیوی کوای ہی سکون والی زندگی گزارنے کی توفیق عطاکر میں ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.