ایک رئیس کی بیٹی کہتی خبر دار جو کوئی میرے جسم کو ہاتھ لگاۓ

پرانے زمانے میں ایک رئیس کی بیٹی گھوڑا سواری کے دوران گھوڑے سے نیچے گر گئی اور اس کے کولہے کی ہڈی اپنے بند سے جدا ہو گئی ۔ لڑکی کے باپ نے بہت سے حکیموں سے اسکا علاج کروانے کی کوشش کی کہ ہڈی کو واپس اپنی جگہ پر بٹھائیں مگر مصیبت یہ تھی ، کہ لڑکی کسی حکیم کو اپنا جسم چونے کی اجازت نہیں دیتی تھی ۔ باپ نے بہت اصرار کیا کہ بیٹی حکیم کو شریعت نے بھی محرم قرار دیا ہے لیکن بیٹی کسی بات پر بھی راضی نہیں ہو رہی تھی اور دن بدن کمزور

ہوتی جا رہی تھی ۔ آخر کار لوگوں نے مشورہ دیا کہ شہر سے باہر ایک بہت حاذق حکیم رہتے ہیں ان سے جا کر مشورہ کر لیں ۔ وہ شخص حکیم صاحب کے پاس گیا اور اپنا مسئلہ بیان کیا تو حکیم صاحب نے کہا کہ ایک شرط پر میں آپ کی بیٹی کا کولہا ہاتھ لگائے بغیر واپس بٹھا سکتا ہوں وہ شخص کہنے لگا کہ جو بھی شرط ہے میں قبول کرنے کے لئے راضی ہوں پھر حکیم نے کہا کہ شرط یہ ہے کہ ایک بہت موٹی تری گاۓ مجھے لا کر دو آپ کی بیٹی کا علاج ہو جائے گا ۔ وہ شخص بہت

بھاری قیمت پر شہر کی سب سے تنومند گائے خرید کر حکیم صاحب کے گھر لے گیا ۔ حکیم صاحب نے کہا کہ آپ اپنی بیٹی کو پرسوں اپنے ساتھ یہاں لے آناد اسی دن اللہ کے حکم سے اس کا علاج کر دوں گا ۔ جب وہ شخص چلا گیا تو حکیم صاحب نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ دو دن تک نہ تو گائے کو گھاس کا ایک تنکا کھلا یا جائے اور نہ ہی پانی کا ایک قطرہ پلایا جاۓ ، شاگرد یہ سن کر بہت حیران ہوۓ کہ اتنی تنومند گاۓ دو دن میں بھوک اور پیاس سے مر نہ جاۓ لیکن

چونکہ استاد کا حکم تھا اس لیے تعمیل کے سوا کوئی اور چارہ نہ تھا ۔ دودن میں گاۓ بھوک اور پیاس کی شدت سے بہت کمزور ہو گئی ۔ تیسرے دن دوپہر کے وقت وعدے کے مطابق وہ شخص اپنی بیٹی کو چار پائی پر ڈال کر حکیم صاحب کے پاس لے آیا ۔ حکیم صاحب نے لڑکی کے ۔ والد سے کہا کہ اپنی بیٹی کو گائے کے پیٹ پر بٹھالیں سب بہت حیران ہوۓ لیکن حکم ماننے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہ تھا ۔ اس لڑکی کو گاۓ کے پیٹ پر بٹھا دیا گیا اب حکیم صاحب نے کہا کہ لڑکی کے دونوں

پاؤں گاۓ کے پیٹ کے گردرسی سے باندھ دیں ، یہ کام ہونے کے بعد حکیم صاحب نے شاگردوں سے کہا کہ اب گاۓ کے سامنے گھاس اور دوسری خوراک ڈال دو گائے دودن کی بھو کی پیاسی تھی اس لیے جلدی جلدی کھانے لگی حکیم صاحب نے اس کے سامنے پانی کی بڑی سی بالٹی میں بہت سارا نمک ڈال کر رکھ دیا اور گاۓ تیزی سے پانی پینے گی پانی میں نمک کی آمیزش نے پیاس کی شدت اور بڑھا دی اس نے ایک ساتھ بہت سارا پانی پی لیا ۔ گھاس اور پانی نے گاۓ کا پیٹ پھلانا ۔

شروع کر دیا اور لڑکی کی ٹانگوں پر دباؤاتنا بڑھا کہ وہ چیخنے چلانے لگ گئی ۔ اچانک کھڑا کی آواز آئی اور لڑکی شدت درد سے بے ہوش ہو گئی پھر حکیم صاحب نے لڑکی کو گاۓ سے اتروا کر اس کے والد سے کہا کہ آپ کی بیٹی کے کولہے کی ہڈی اپنی جگہ پر واپس بیٹھ گئی ہے اور یہ گاۓ آج سے میری ہے ، وہ حکیم کوئی اور نہیں بلکہ بو علی سینا تھے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.