ایک روز میری پڑوسن نے مجھے ایسی ویب سائیٹ کے بارے میں بتایا جہاں اپنے جسم کی نمائش کر کے پیسہ کمایا جاتا تھا

اں باپ کی وفات کے بعد میں ماموں کے گھر رہنے لگی تھی میں ایک پڑھی لکھی لڑکی تھی جس کی وجہ سے مجھے ایک آفس میں پرائیویٹ جاب مل گئی تھی اسی آفس میں ایک فہد نامی لڑکا بھی جاب کرتا تھا جس سے میری دوستی ہو گئی فہد بہت ہی اچھا انسان تھا اور وہ مجھے پسند بھی کرنے لگا تھا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم دونوں ایک دوسرے کو چاہنے لگے ۔

پھر ایک دن آفس میں میرے ساتھ جو واقع پیش آیا تھا وہ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔ سر خالد نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا اور الماری میں سے ایک فائل نکالنے کو کہا ۔ جبمیں الماری کی طرف بڑھنے لگی تو مجھے کسی نے پیچھے سے چھونے کی کوشش کی میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ سر خالد ہی تھے پھر میں نے جلدی سے ان کے منہ پر ایک تھپڑ رسید کر دیا ۔ بس وہ آفس میں فہد مجھ سے رابطے ہوں ۔ میں نے اس سے کہا کہ تجھے ماموں سے بات کرنی پڑے گی آخری فیصلہ تو ماموں ہی کریں گے ۔ پھر اسکے گھر والے ماموں سے میرا ہاتھ مانگنے کے لیے آگئے ۔ ماموں چاہے جیسے بھی تھے لیکن جب انھوں نے ایک اچھا میرا آخری سمجھ سے کہتارہتا ہونے کے بعرشتہ دیکھا تو میرے سر پر ہاتھ رکھ کر گھر سے رخصت کر دیا ۔ فہد نے شروع کے دنوں میں میرا بہت خیال رکھا تھا اور مجھے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے میں دنیا کی خوش نصیب ترین لڑکی ہوں مگر کچھ ہی مہینوں بعد اس کا لہجہ تلخ سے تلخ ہوتا گیا ۔ مجھے ہر وقت فارغ ہونے کے طعنے دینا شروع ہو گیا ۔

مہنگائی بڑھ رہی ہے بیوی کو بھی شوہر کا ہاتھ بٹانا چاہیے ۔ میں نے مختلف جگہ پر اپلائی کرنا شروع کر دیا مگر کام نہ مل سکا ۔ فہداب مجھ پر تشدد کرنے لگا ۔ کہنے لگا کہ فلاں کی ، ہیوی اتنی اچھی جاب کر رہی ہے تم بالکل بیکار عورت ہو جو گھر میںصرف روٹیاں توڑ سکتی ہو ۔ پھر ایک دن ہماری پڑوسن ہمارے گھر آئی اس کے کپڑے اور زیور دیکھ کر میں حیران ہو گئی ۔ میں جانتی تھی کہ اس کے شوہر کا ایک معمولی سا کریانہ اسٹور تھا ۔ میں نے پڑوسن سے ما کہا کہ اگر برا نہ مانو تو ایک بات پوچھوں اس نے کہا کہ پوچھو کیا بات ہے ، میں نے کہا کہ اتنے مہنگے کپڑے اور زیورات کہاں سے آۓ ۔ اس نے کہا کہ یہ سب میرے فینز کی بدولت ہے ، میں ایک ویب ں سائٹ پر اپنے فینز اور دوستوں سے گپ شپ کرتی ہوں جس کا مجھے پ پیسہ ملتا ہے ۔ میں نے کہا مجھے بھی اس کام کے بارے میں بتا دو ۔اس نے کہا ہاں کیوں نہیں میں سب سمجھا دوں گی مگر ایک بات یاد رکھنا کہ اس ویب سائیٹ پر اپنے فینز کا خیال رکھنا پڑتا ہے ان کی ہر بات ماننی پڑتی ہے ۔

پھر میں نے بھی اس ویب سائیٹ میں اپنے آپ کور جسٹر کروالیا ۔ میں نقاب میں لوگوں کے سامنے آتی مگر کوئی مجھ میرا رہا تھا اور نہ ہی کچھ کمائی ہو رہی تھی ۔ پھر اس نے مجھ سے کہا کہ کچھ پانے کیلئے کچھ کھونا بھی پڑتا ہے دان کی مرضی کے مطابق کپڑے پہنا کر وہ پھر اپنی کمائی دیکھو ۔ اب میں مختلف روپ میں لوگوں کے سامنے آنا شروع ہو گئی ۔ کبھی کو یقین نہیں بن “وہ کھڑا ہونے کو کہتے کبھی کوئی فرمائش کرتے ، میں ان کی ہر فرمائش پوری کر رہی تھی ۔ میں ایک دلدل میں دھنستی جارہی تھی جس کا مجھے اندازہ نہیں تھا ۔ آہستہ آہستہ ایک ایسا وقت بھی آ گیا کہ مجھے اپنے کپڑے اتر کر لوگوں کے سامنے آنا پڑام میں اپنی شناخت ظاہر نہیں ، اند کرتی تھی اور اپنا چہرہ رومال سے ڈھانپ لیتی تھی ۔ ایک دن اس ویب سائٹ پر ایک آدمی مجھ سے مختلف فرمائشیں کرنے لگا ۔ میں اس کی فرمائشیں پوری کرتی رہی اور میرا ریٹ بڑھتا چلا گیا ۔ اس نے کہا کہ اگر چہرے سے رومال ہٹا دو تو پانچ لاکھ کا اضافہ ابھی کر دوں گا۔ر قم بہت زیادہ تھی فہد کے طعنے مجھے ماد آنے لگے ۔ میں نے اس کو بتار کھاتھا کہ میں آن لائن جاب کرتی ہوں مگر یہ نہیں بتایا تھا کہ کون سی جاب کرتی ہوں ۔

جب اس نے میرے اکاؤنٹ میں پانچ لاکھ ڈال دیے تو میں نے چہرے سے رومال ہٹا دیا ۔ پھر اس نے پیچھے سے آواز دی کہ فہد ذرامال چیک کر وہ جلدی آؤ ۔ فہد اچانک کیمرے کے سامنے آ گیا اور مجھے اپنے آپ کو چھپانے کا موقع بھی نہ مل سکا ۔ چیٹ پر فہد کا دوست تھا یہ مجھے بالکل معلوم نہیں تھا ۔ میں نے لیپ ٹاپ بند کیا ۔ بیگ اٹھایا اور گھر سے چلی گئی ۔ میں یہ سوچ کر گھر سے چلی گئی کہ فہد اب مجھے قبول کیسے کرے گا ۔ میں وہ شہر چھوڑ کر چلی گئی مجھے گھر سے بھاگے ہوۓ چھ سال ہو چکے ہیں ۔ میں ایک کرائے کے مکانمیں رہتی ہوں مجبور ہو کر اسی ویب سائٹ پر کام کر رہی ہوں ورنہ باہر بھیک مانگنی پڑے گی ۔ میں نہیں جانتی کہ فہد نے مجھے تلاش کیا ہو گا یا نہیں مگر میں اتناضر در جانتی ہوں کہ میری زندگی کی تباہی کا ذمہ دار فہد ہی تھا ۔ مرد کا کام عورت کو کما کر دینا ہے جبکہ عورت کا کام گھر کو ہی سنبھالنا ہوتا ہے ۔ وہ ایک لا پچی شخص تھا جس نے سب کے ا سامنے مجھے اپنے جسم کی نمائش کرنے پر مجبور کر دیا تھا ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *