باپ بیٹی کے لیے کیسا لڑ کا پسند کرے ایک بزرگ کو کسی نے لکھا

” شادی کرتے وقت لڑکے میں کیا صفات دیکھنی چاہی نے “ ایک صاحب نے لکھا کہ لڑکیوں کی شادی کی بہت فکر ہے ۔ کوئ نسبت حسب منشاء نہیں آئی جس سے عقد کیا جائے۔اگر کہیں سے داڑھی والے لڑکے کی بات آتی ہے تو وہ نہایت غریب مفلوک الحال ظاہر ہوتے ہیں۔اور جس کو دال روٹی سے خوش دیکھا جاتا ہے تو وہاں راڑھی صفاچٹ ۔ کی جگہ محض اس وجہ سے انکار کر دیا گیا ۔ دعا کیجی نے حق تعالی آبرور رکھے اور اس معاملے میں شرمندگی کی نوبت نہ آۓ۔ ہر شخص کہتا ہے میاں اس خیال کو چھوڑ دو آج کل داڑھی بڑی مشکل سے ملے گی ۔

جواب میں تحریر فرمایاواقعی بڑی مشکل ہے ۔ میں پختہ رائے تو نہیں دیتا لیکن میراخیال یہ ہے کہ اس زمانے میں پوری دینداری داڑھی والوں میں بھی نہیں ۔ پس ایک داڑھی منڈانے کا گناہ کر رہا ہے تو محض داڑھی لے کر کیا کریں گے۔اگر ہو تو حقیقی دینداری ہو جو بہت عنقاء ہے ۔ پس اس صورت میں اگر اس میں وسعت کی جائے تو بہتر ہے ۔ یعنی چند چیزوں کو دیکھ لیا جائے جو درج ذیل ہیں ۔ 1۔ایک یہ کہ اسلامی عقائد میں شک وشبہہ نہ ہو یا تمسخر واستہزاء سے پیش نہ آۓ ۔

2۔طبعیت میں صلاحیت ہو کہ اپنے سے بڑے لوگوں کو عزت دیتا ہو اور اہل علم کا ادب کر تاہو ۔ 3۔نرم خو ہو ۔ یعنی نرم مزاج ہو ۔ متعلقین کے حقوق ادا کرنے کی اس سے توقع ہو ۔ 5۔ پردیس میں نہ رہتا ہو ۔ فرمایا کہ پردیسی مردوں سے لڑکیوں کی شادی اکثر مضر رساں ہوتا ہے ۔

5۔اور بقدر ضرورت مالی گنجائش ہو نا تو ضرور ی ہی ہے ۔ ( جس لڑکے میں ایسے اوصاف پائے جائیں تو ایسے شخص کو گوارہ کر لیا جائے ۔ پھر جب آمد ورفت اور میل جول اور مناسبت ہو گی تو ایسے شخص سے بعید نہیں کہ اس داڑھی کے معاملے میں بھی اسکی اصلاح ہو جاۓ ۔ تین امر اور ہیں جن کالحاظ کرنا اور دیکھنا بہت ضروری ہے ۔ 6۔ایک قوت اکتساب یعنی کمانے کی قوت

7۔ دوسرے کفایت برابر میں زیادہ تفاوت نہ ہو 8۔ تیسرے دینداری ان دونوں صورتوں میں زیادہ کاوش ( کھوج ) چھوڑ دے ورنہ وہی بات پیش آئے گی جس کا ذکر حدیث میں ہے کہ جب خلق ( اخلاق ) اور دین میں کفایت ( مناسبت ) ہو تو نکاح کر دیا کروورنہ زمین میں فساد کبیر ہوگا ۔ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب لا

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *