جب میں وہاں سے گزرا تو اس بزرگ کی بیٹی کو دیکھ کر اپنے نفس کو قابو میں نہ رکھ سکا

ایک بادشاہ جب بھی کسی مسئلے کا فیصلہ کرتا تو اسلام کے اصولوں اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کر کے کرتا تھا ۔ وہ بادشاہ نہ صرف انصاف پسند تھا بلکہ وہ اپنی عقلمندی میں بھی اپنی مثال آپ تھا ۔ وہ بادشاہ کہتا تھا کہ جو آدمی موت پر یقین رکھتا ہے اور اللہ کی اس پاک سر زمین پر دوسروں کی مدد کے لیے جیتا ہے اللہ تعالی اس کو کبھی زندگی میں مایوس نہیں ہونے دیتا ۔ ایک دن بادشاہ سلامت دربار میں بیٹھا ہوا تھا تو بادشاہ سلامت کی نظر اچانک سامنے پڑی کہ گاؤں کے چند لوگ چار نوجوانوں کو پکڑ کر لا رہے تھے ، بادشاہ سلامت نے اپنے وزیر سے پوچھا کہ لوگوں نے ان نوجوانوں کو اس طرح کیوں پکڑا ہوا

ہے ۔ وزیر نے جواب دیا کہ حضور یہ اپنا کوئی فیصلہ کروانے کے لیے آپ کے پاس آ رہے ہیں ، پھر بادشاہ نے کہا اگر یہ بات ہے تو میں ان کی مدد ضرور کروں گا ۔ لوگ جب دربار میں حاضر ہوۓ تو ان میں ایک بزرگ ۔ کہنے لگا بادشاہ سلامت میری ایک خوبصورت اور حسین و جمیل بیٹی تھی ۔ گرمی کی وجہ سے وہ ایک نہر کے کنارے نہا رہی تھی کہ یہ آوارہ لڑ کے وہاں سے گزرے تو میری بیٹی کو انہوں نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا اور زیادتی کرنے کے بعد میری بیٹی کو نہر میں پھینک دیا ۔ بادشاہ نے بزرگ سے کہا کہ تم اتنے وثوق سے کیسے کہہ سکتے ہو کہ ان چاروں نے تمہاری بیٹی کو قتل کیا

ہے اور اس کے ساتھ زیادتی کی ہے ، تو بزرگ نے جواب دیا بادشاہ سلامت میں اپنی بیٹی کو ڈھونڈتا ہوا نہر کے کنارے پہنچا تو یہ چاروں اس جگہ کے پاس کھڑے تھے اور میری بیٹی کا دوپٹہ ان کے پاس تھا ۔ بادشاہ سلامت ان چاروں سے مخاطب ہوا اور پوچھا کیا واقعی بزرگ کی بات بیچ ہے تو ان چاروں نے کہا کہ ہم نے کچھ نہیں کیا اس بزرگ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ۔ جب بادشاہ سلامت نے دیکھا کہ چاروں لڑ کے اپنا جرم تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو بادشاہ سلامت نے حکم دیا کہ چار دودھ کے پیالے حاضر کیے جائیں , جب دودھ کے چار پیالے حاضر کیے گئے تو بادشاہ

نے چاروں لڑکوں کو اپنے سامنے بٹھا لیا اور کہا کہ ان کو ایک ایک دودھ کا پیالہ دیا جاۓ ۔ اس کے بعد بادشاہ سلامت ان چاروں سے مخاطب ہوا اور کہا کہ تم میں سے جو بھی مجرم ہو گا جب وہ دودھ پئے گا تو دودھ اس کے معدے میں جا کر زہر بن جاۓ گا کیونکہ یہ دودھ ایک بزرگ بابا کا چونکا ہوا ہے اور وہ دودھ اتنا زہر یلا بن جائے گا کہ تم دوسرا سانس بھی نہیں لے پاؤ گے ۔ چاروں لڑکوں کے چہرے پر پریشانی کے آثار نظر آنے لگے اس کے بعد بادشاہ نے جلاد کو حکم دیا کہ جو لڑ کا دودھ پینے میں مزاحمت کرے اس کی گردن اڑا دینا ۔ اب ان کے پاس یا تو اب دودھ پیا تھا یا گردن تن سے جدا

کروائی تھی ۔ جب چاروں نے دیکھا کہ ہمارے پاس اب کوئی راستہ نہیں ہے تو ان میں سے تین نے تو دودھ پی لیا لیکن ایک کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔ اور اس کے ہاتھ سے دودھ کا پیالہ گر گیا ۔ تمام گاؤں والے اور دربار میں موجود در باری بڑے حیران ہوۓ کہ بادشاہ سلامت اس دودھ سے کیسے ثابت کرے گا کہ ان چاروں میں کون مجرم ہے ۔ جب دودھ کا پیالہ اس لڑکے کے ہاتھ سے گرا تو بادشاہ سلامت نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس لڑکے کو پکڑ لو صرف یہی لڑکا مجرم ہے ۔ تمام در باری حیران ہوۓ کہ بادشاہ

سلامت نے تو کہا تھا کہ جو قاتل ہو گا وہ زہر یلے دودھ سے مر جاۓ گا لیکن یہ کیسے ہوا ، پھر بادشاہ نے کہا کہ یہ ایک عام گائے کا دودھ ہے اور کسی بزرگ بابا کا چونکا ہوا نہیں ہے ، یہ سب میں نے اس لیے کہا تھا کہ جو لڑکا قاتل ہو گا وہ یہ جانتے ہوئے کہ یہ دودھ اس کے لئے موت ثابت ہو گا وہ کبھی بھی اسے نہیں پیئے گا اور جو بے قصور تھے ان کے دل میں خوف نہیں تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ہم بے قصور ہیں ۔ اس لئے ان تینوں نے دودھ پی لیا ۔ اس کے بعد لڑکے نے اپنا جرم تسلیم

کیا ۔ بادشاہ سلامت نے پوچھا کہ حقیقت میں کیا ہوا تھا تو اس نے بتایا کہ اس بزرگ کی بیٹی نہر کے قریب نہا رہی تھی جب میں وہاں سے گزرا تو اس بزرگ کی بیٹی کو دیکھ کر اپنے نفس کو قابو میں نہ رکھ سکا اور اس لڑکی کے ساتھ زیادتی کی جب وہ بہت زیادہ چلانے لگی تو میں نے اسے نہر میں دھکا دے دیا اور پھر وہ ڈوب کر مر گئی لڑکی کی چیخ سن کر یہ تینوں بھاگتے ہوۓ آۓ لیکن میں نے ان کو کہا کہ ایک لڑکی ڈوب رہی تھی اور مدد کے لیے پکار رہی تھی لیکن تمہارے آنے میں دیر ہو گئی ۔ اور ۔

اس لڑکی کا ڈوپٹہ میرے ہاتھ میں رہ گیا تھا یہ سب سن کر بادشاہ سلامت نے اس لڑکے کو پھانسی کا حکم دے دیا ۔ پھر اس کے بعد اس بزرگ نے کہا کہ بادشاہ سلامت جب تک آپ جیسے حکمران اس دنیا میں زندہ ہیں کوئی بھی غریب غریب نہیں ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *