جسم سے جو کچھ کمانا چاہتے ہو کمالولومیرے پاس رہنے کے لئے جگہ نہیں تھی اس لئے میں

وہ عورت جو مہینوں میں کماتی تھی اب وہ دنوں میں کمانے لگی ۔ لیکن وہ لڑکیاں اپنی مرضی سے اپنے جسم کو فروش نہیں کرتی

ان میں سے کوئی غربت یا بھوک سے تنگ آکر کچھ لڑکیاں اپنی دنیاوی خواہش پوری کرنے کے لیے اور کچھ لڑکیاں بہت مجبور ہو کر ہر آدمی کو چند چیوں کے لیے اپنے جسم کو ان کے حوالے کر دیں میں۔اور وہ درندے ان کے جسم کو نوچ کر چلے جاتے۔جب اس کاروبار کار کے بارے میں بہت زیادہ چرچا ہوا تو بڑےبڑے افسروں نے پولیس پر زور ڈالا کہ تم ان کو جا کر کچھ کہتے نہیں کیوں نہیں ۔ پہلے تو وہ پولیس والے رشوت لے کر چلے لیکن جب ان کے سر سے پانی اوپر ہوا تو انھوں نے اس عورت کو کہا کہ آپ اب یا تو ہمیں اور خرچہ دویا تو تمھیں یہ دھندا بند کرناپڑے گا۔اس عورت کے پاس بہت پیسہ جمع ہو چکا تھا اس نے ان کوبہت ساری رقم دی

اور کہا اپنے اوپر والوں تک پہنچا دیں اور اوپر والوں کا منہ بند کر دیں۔ایک دن ایک بہت ہی خوبصورت اور حسین و جمیل لڑکی اس کو ٹھی کے دروازے پر آئی ۔ وہ عورت اس کو دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی یہ بھی کوئی اپنے جسم کو فروخت کرنے والی ہو گئی اور اس کا حسن دیکھ کر وہ تو پاگل ہی ہو گی ۔اب وہ اسے اپنے کمرے میں لے آئیں اور اس کو سب کچھ بتانے کے بعد اس کو اپنے کمرے میں بٹھا دیا اور تھوڑی ہی دیر میں ایک بہت بڑا افسر اس کوٹھے پر آیاتو وہ عورت اس لڑکی کے کمرے میں اس کو لے گئی ۔ لیکن وہ افسر تھوڑی ہی دیر دیر بعد ہوا افسر واپس چلا گیا ۔ پھر دوسرے دن بھی ایسا ہوا کہ جو بھی کوئی نوجوان آتا تھاتو بغیر کچھ کہے وہاں سے چلا جاتا۔اس عورت کا کاروبار بالکل ڈاؤن ہو رہا تھا ۔ پھر ایک مرد آیت اس لڑکی کے کمرے میں آیا لیکن پھر وہ بھی چند لمحوں بعد ہی واپس چلا گیا۔

اس عورت نے اس آدمی سے پوچھا کہ آج کیا بات ہے تم کچھ کیا بناہی جارہے ہو تو اس آدمی نے کہا اندر جا کر خود دیکھ لو تو عورت بہت پریشان ہوئی اورجب وہ اس کمرے میں گئی تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی کیونکہ وہ لڑکی اندر عبادت کرنے میں مصروف تھی۔اس عورت نے پوچھا کیا لڑ کی تمہیں معلوم نہیں کی یہاں کیا کام ہوتا ہے اور تم یہاں عبادت کرنے میں مشغول ہو گئی ہو تو اس لڑکی نے کہا جب میں اس کو ٹھے کے پاس سے گزر رہی تو اس کے دروازے پر لکھا تھا کہ اپنے جسم سے جو کچھ کمانا چاہتے ہو کمالولومیرے پاس رہنے کے لئے جگہ نہیں تھی اس لئے میں اس کو ٹھے میں آگئی اور اللہ کی عبادت میں مصروف ہو گئی ۔ کیونکہ یہ جسم ہمارے پاس امانت ہے اور ہم جتنی عبادت کرنا چاہے کر سکتے ہیں میں اپنے جسم کو عارضی تکلیف دے کر اپنی جنت کمار ہی ہو ۔ کیا آپ نے دروازےپر نہیں لکھا کہ اپنے جسم سے جو کچھ کمانا چاہتے ہو تو کما لو تو اس عورت نے کہا ہاں تمھاری بات بالکل درست ہے میں نے یہ ضرور لکھا ہے لیکن میں نے اس کام کے لیے نہیں لکھا تو اس لڑکی نے اس عورت سے کہا جو کام تم اس دنیا میں کر رہی ہوں

تو شاید تمہیں جہنم میں بھی جگہ نہ ملے ۔ تم ان معصوم مجبور اور لاچار لڑکیوں کو یہاں لے آئی ہوں ہو تو ان کے جسم کو امیر زادے نوچ کر چلے جاتے ہیں قیامت کے دن تم سے ایک ایک لڑکی اپنے جسم کا حساب لے گی اور قیامت کے دن تمہیں اپنے جسم سے کمانے کے لئے اور کچھ نہیں ملے گامیہ بات اس عورت کے دل کو جالگی ۔ پھر اس نے کہا تمہاری بات بلکل درست ہے پھر اس نے کہا کہ تم اپنےسے پوچھو کہ تم اتنے سالوں سے یہ کام کر رہی ہو کیا تمہیں کوئی سکون ملا تو تو اس نے کہا ایسا ایک بھی لحہ بھی نہیں گزرا جس میں نے سکون کا سانس لیا ہو ۔ پھر اس لڑکی نے کہا تمہارے کہنے کے مطابق کئے درندے اس کمرے میں آۓ اور یہاں سے چلے گئے لیکن میں اپنے رب کی یادوں میں اتنی محو تھی کہ مجھےاس بارے میں پتہ ہی نہیں چلا اور مجھے تم سے زیادہ بیوقوف اور دنیا میں لگتا ہی نہیں

کیونکہ تم اس دنیا کے لئے کمارہی ہوں جس میں رہنے کے لئے ایک سیکنڈ کا بھی پتا نہیں میں تو اس دنیا کے کام کر رہی ہوں جس نے میں نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جاتا ہے ۔ یہ سن کر اس عورت اس وقت سجدے میں گر گئی اور اللہ تعالی سے گرا کر معافیاں مانگنے لگی

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.