سوہانجنا تین سو بیماریوں کا علاج مورنگا استعمال کرنے کا اصل طریقہ اور قیمتی علاج

سوہانجنا ہمارا دیسی درخت ہے۔ پورے پاکستان میں اس کے درخت پائے جاتے ہیں۔ کراچی کے اکثر گلی کوچوں اور سڑکوں پر اس کے درخت لگے نظر آتے ہیں۔ انگریزی میں اس کو مورنگا کہتے ہیں۔ جدید سائنسی ریسرچ نے یورپ اور امریکہ میں اس درخت کی دھوم مچائی ہوئی ہے۔ ماہرین غذائیات اور فوڈ سائنس کے ماہرین اس کی کرشماتی صفات پر حیران ہیں۔ اس کے پتوں کے ایکسٹریکٹ سے تیار کردہ کیپسول، گولیاں اور فوڈ سپلیمنٹ دھڑا دھڑ بک رہے ہیں۔ جاپان کی ایک معروف دودھ کمپنی عرصہ دراز سے موریناگا کے نام سے بچوں کا دودھ بنا رہی ہے جو مورنگا کی غذائی خصوصیات سے بھرپور ہے۔ یہ کم و بیش تین سو قابل علاج اور لا علاج بیماریوں کا علاج ہے لیکن صد افسوس کہ ہمارےیہاں اسے بکریاں کھا رہی ہیں۔ اگر لوگوں کو اس کے فوائد کا پتہ چل جائے تو سوہانجنا کے درختوں پر ایک پتہ باقی نہ رہے۔ سُہانجنا یا سُوہانجنا یا سوجہنی کا درخت بھارت۔ پاکستان اور افغانستان میں ہمالیہ پہاڑ کی شاخوں کے قریبی علاقوں میں اُگنے والا درخت ہے۔ جدید تحقیق بتاتی ہے کہ سُہانجنا نامیاتی قدرتی برداشت اور طاقت کا ضمیمہ ہے۔ اس کی پھَلیاں اور جڑیں بھی مفید ہیں لیکن سب سے زیادہ کار آمد سُہانجناکے پتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ سُہانجنا 300 کے لگ بھگ بیماریوں یا صحت کے مسئلوں میں مفید ہے اور یہ کہ اس کے استعمال کے بُرے اثرات نہیں ہیں۔ یہ بچوں۔ جوانوں اور بُوڑھوں کے لیے بھی مفید ہے۔ سُہانجنا کا استعمال یاد داشت کو بھی بہتر بناتا ہے۔ اسے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن بھی پچھلی 4 دہائیوں سے بطور سَستے صحت ضمیمہ کے استعمال کر رہی ہے۔سُہانجنا کے فوائد جسم کی قدرتی مدافعت بڑھاتا ہے۔ دماغ اور آنکھوں کو غذا مہیاء کر کے قوت بڑھاتا ہے۔ جیو دستیاب اجزاء کے ساتھ حل کو فروغ دیتا ہے۔ جسم کے خلیے کی ساخت کو فروغ دیتا ہے۔ قدرتی صفرائے جامد رقیق مادہ کو فروغ دیتا ہے۔ چہرے پر جھریوں اور باریک لکیروں کے بننے کو کم کرتا ہے۔ جگر اور گردے کے کام کو فروغ دیتا ہے۔ جلد کو خوبصورت بناتا ہے۔ طاقت کو بڑھاتا ہے۔ہاضمہ بڑھاتا ہے۔ مخالف تکسیدی عامل کے طور پر کام کرتا ہے۔ جسم کی قوتِ مدافعت کو بڑھاتا ہے۔ صحت مند خون کے نظام کو فروغ دیتا ہے۔ سوزش کو روکتا ہے۔ صحتمندی کا احساس دلاتا ہے۔ جسم میں شکر کی سطح قائم رکھتا ہے۔جن وجوہات جن کی بِنا پر سُہانجنا کی بطور بہترین غذا تعریف کی جاتی ہے، اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے سُہانجنا کو وِٹامِنز، معدنیات اوردوسری انسانی ضروریات سے بھرا ہے۔

اس کے 100 گرام خُشک پتوں میں خوراک کی مندرجہ ذیل مُفید اشیاء پائی جاتی ہیں: پروٹین۔ دہی سے 9 گُنا، وِٹامِن اے۔ گاجروں سے 10 گُنا، پوٹاشیئم۔ کیلے سے 15 گُنا، کیلشیئم۔ دُودھ سے 17 گُنا، وِٹامِن سی۔ مالٹے سے 12 گُنا، لوہا۔ پالک سے 25 گُنا۔اس میں مخالف تکسیدی عامل کی بھاری مِقدار بمع بِیٹا کارَوٹِین۔ قرسِیٹِن موجود ہےاس میں کلَورَو جِینِک ایسِڈ جو چینی جذب کرنے کی رفتار کو کم کرتا ہے۔ اس سے خون میں شُوگر کم ہوتی اور ذیابیطس کے مرض میں بہتری آتی ہے۔ پتے، پھلیاں اور بیج جَلَن کو کم کرتے ہیں۔ چنانچہ معدے کے الّسر کے علاج میں مُفید ہیں۔ اس کا میٹھا تیل تَلنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور سلاد میں کچا بھی کھایا جاتا ہے۔ تیل فَنگس اور آرتھرائٹس کے علاج کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ کولیسٹرول کو صحتمند حدود میں رکھتا ہے۔ سنکھیا کے علاج میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔صرف یہی نہیں بلکہ یہ ایسے خامرے اور کیمیائی اجزا پر مشتمل ہے جو دماغ کو بھرپور صحت، بینائی کی تیزی، یاداشت میں بہتری، دماغی سکون، ڈپریشن سے نجات دیتے ہیں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.