عورت کی شرم گاہ

ہمارے معاشرے میں عورت جتنی بھی خوبصورت کیوں نہ ہو خو بصور تی اس کے ہا دہ ہو جانے میں ہی ہے کپڑے اترتے ہی وہ محض گوشت کی حیثیت رکھتی ہے ۔زناہمارے معاشرے سے کم ہو گا تو نکاح کی نوبت آۓ گی

اگر نگا ہو نا اور نگی گفتگو کر نا ماڈر نزم ہے تو جانور سب سے زیادہ ماڈرن ہے اس لئے اپنی تہذیب نہ بھولیں انسان رہیں جانور نہ بنیں ہم بھی انسان ہیں ۔جسم فروشی کوئی جرم نہیں ہے آپ لوگوں کو جسم فروش تو نظر آتی ہے کبھی خریدار کے بارے میں بھی کچھ ا کہا دیا کرو

۔آج کل کے دور کی محبت صرف ہوس پوری کرنی کی ہیں جب تک جسم ملتا رہے گا محبت ہوتی رہے گی ایک بار انکار محبت حتم ۔حیا کا درس صرف آج کی عور توں کے لیے نہیں بلکہ مرد کے لیے بھی بہت ضروری ہےہر مرد کی یہ فقرہ ضرور کہتا ہے کہ مجھے تم سے محبت ہے یہ محبت کیا ہوتی ہے کوئی بتاۓ مجھے ۔ایک چالاک مر دعورت کو باتوں سے لے کر اکیلے کمروں تک لے جاتا ہے اس میں غلطی عورت کی ہوتی ہے اور گناہ میں دونوں برابر کے شریک ہے ۔۔

جب مرد عورت کی شرمگاہ چوم لے تو سمجھ جاناوہ ہوس کا بھراہواہے ۔دنیا کی حسین ترین عورت بھی مر د پر بوجھ بن جاتی ہے جب وہ بیوی بن جاتی ہے بیوی روٹی سالن کی طرح ہوتی ہے بھوک گی تو سالن روٹی کھالی اور بھوک مثالی روز کی روٹی بھوک مٹاتی ہے مزا نہیں دیتی ذائقہ بدلنے کے لیے مرد پھر طوائف کے کوٹھے کارخ کرتا ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.