ٹی بی بہت ہی خطر ناک بیماری لیکن جی ہاں علاج موجود ہے

آج  ہم آپ کے لیے ایک گھر یلو علاج لے کر آئے ہیں یہ گھریلو علاج  ہے وہ ٹی بی کے مرض کے حوالے سے ہے ٹی بی ایک بہت ہی خطر ناک بیماری ہے اس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے لیکن اگر اس کا علاج موجود   ہے دیسی بھی ڈاکٹری بھی  اس کی علا مات کھانسی کا زیادہ ہو نا ہے اور نہ ٹھیک ہو نا ہے سب سے بڑی نشانی اس کھانسی کا زیادہ ہو نا ہے ۔  آج میں آپکو جو گھریلو علاج بتا رہی ہوں انشاء اللہ ٹی بی کو جڑ سے ختم کر دے گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ جو بھی دوائی استعمال آپ کر رہے ہیں وہ ویسے ہی جاری رکھیے اور اس کے ساتھ دیسی دوائی استعمال کیجئے انشاء اللہ آپ کا ٹی بی کا مرض ختم ہو جائے گا اس کے لیے جو اجزاء چاہییں وہ آپ نوٹ کر لیجئے  کلونجی آپ کو چاہیے دس گرام۔

دال چینی دس گرام  سبز الائچی دس گرام  طباشیر آپ کو چاہیے بیس گر ام  یہ تمام چیزیں آپ کو پنسار سٹور  سے با آسانی مل جائیں گی طریقہ استعمال یہ ہے کہ ان چیزوں کو آپ نے گرینڈ کر کے رکھ لینا ہے ایک باریک  سا پاؤڈر بن جائے گا اس میں آپ نے ایک سو پچاس ایم ایل شہد کو شامل کر دینا ہے  ایک مجون بن جائے گی اور اس مجون کو آپ نے چار دفعہ لینا ہے چھوٹی چمچی کے ساتھ اس کے ساتھ آپ کو  نظام ہاضمہ  جو ہے وہ ٹھیک ہو جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ جو زیادہ پیشاب آتا ہے وہ بھی ٹھیک ہو جائے گا۔  اور آپ کا وزن بڑھنا شروع ہو جا ئے گا۔

انشاء اللہ ضرور کیجئے گا آپ کو بہت اس کا فائدہ ہو گا۔ ٹی بی کی روک تھام کیلئے عالج سے مراد ان افراد کا ڈاکٹری عالج ہے جو صحتمند ہوں لیکن جن کے جسم میں ٹی بی) ٹیوبرکلوسز یعنی تپدق( کا بیکٹیریا موجود ہو ۔ عالج کا مقصد یہ خطرہ کم کرنا ہے کہ بیکٹیریا کی موجودگی کی وجہ سے آگے چل کران افراد کو ٹی بی ہو سکتی ہے۔جن افراد کو ٹی بی کی روک تھام کیلئے عالج مہیا کیا جاتا ہے، وہ ٹی بی میں مبتال نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ کسی اور کو ٹی بی کی چھوت لگانے کا باعث بن سکتے ہیں۔

ہ خطرہ کم کرنے کیلئے کہ لوگوں کے جسم میں ٹی بی کے سوۓ ہوۓ بیکٹیریا آئندہ کبھی بیدار ہو کر انہیں بیامر نہ کر دیں۔ یہ ادویات جسم میں سوۓ ہوۓ ٹی بی بیکٹیریا کو ہالک کر دیتی ہیں۔یعنی یہ ادویات مستقبل میں انسان کو اس بیامری کے الحق ہونے کا خطرہ کم کرنے کیلئے بھی دی جاتی ہیں۔ روک تھام کا مطلب ہے ›ہونے سے بچانا‹۔ اسی لیے اس عالج کو روک تھام کیلئے عالج کہا جاتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.