کمرے سے رات کو میاؤں میاوں کی آوازیں آتیں

دیور کے کمرے سے رات کو میاؤں میاؤں کی آوازیں آتی تھیں شوہر سے پوچھا تو کہنے لگا کہ بلی ہوگی پر میں مطمئن نہ ہوئی اگلی رات پھر دیور کے کمرے سے میاؤں میاؤں کی آواز آنے لگی۔ شوہر گہری نیند سو رہا تھا میں اٹھی اور دیور کے کمرے میں چلی گئی پر اس رات میرے تو ہوش ہی اڑ گئے۔ میرا نام سبین ہے۔ میری شادی احمد نامی لڑکی سے ہوئی تھی جس کا ایک بڑا بنگلہ تھا اور یہ دونوں بھائی گھر میں اکیلے ہی رہتے تھے ان کے پاس ایک بہت بڑا گھر اور خاندانی

کاروبار تھا سب لوگ میری قسمت پر رشک کر ر تھے کہ میں اتنے اچھے گھر میں چلی گئی جہاں پر کوئی ساس کا جھگڑا بھی نہیں ہے اور نند کی باتیں بھی نہیں سننی پڑتی۔ اور اتنے امیر لوگ ہیں اس گھر میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی دونوں بھائیوں میں بہت پیار تھا میرا دیور ہمارے کمرے کے ساتھ والے کمرے میں رہتا تھا اس گھر میں صرف ایک ہی کمرہ ایسا تھا جس کے باہر ٹیرس تھا میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ مجھے بالکونی والا کیمرہ چاہئے انہوں نے کہا کہ وہ تو

من کے پاس ہے ہے ایسے۔ مین وہ پڑھای کرنے کے لئے باہر کے ملک چلا جائے گا پھر ہم لوگ اس کمرے میں شفٹ ہو جائیں گے میں نے کہا کہ ٹھیک ہے اس گھر میں مجھے کسی چیز کی کمی نہیں تھی میرے پاس سب کچھ تھا اور میں اپنی زندگی میں بہت زیادہ خوش تھی لیکن مجھے میری ایک دوست نے مشورہ دیا کہ مانا کہ اس گھر میں کوئی سازش نہیں کیونکہ ساس نہیں ہے تمہارے شوہر کی کوئی بہن بھی نہیں ہے اور رشتے دار اتنی زیادہ دخل اندازی نہیں کرتے ہوں گے تم بالکل خوش ہو اور اپنی زندگی پر ہے

رشک کر رہی ہوں لیکن مستقبل کے بارے میں بھی سوچوں اس گھر میں ایک دیورانی تو آ سکتی ہے جو تمہارے مقابلے کی ہوگی اور وہ تم پر راج کر سکتی ہے اگر نہ بھی کرے تو تمہارے راج کو خراب تو ضرور کر سکتی ہے کیونکہ وہ بھی تمہاری طرح ہی اس گھر کی بہو ہو گی میں نے کہا کہ میں کیا کر سکتی ہوں کسی نہ کسی نے تو آنا ہے میری دوست نے کہا کہ کسی نہ کسی نے نہیں تم اپنی بہن کو اپنے گھر لے جاؤ جیسی بھی ہو گی کم سے کم تمہاری بہن تو ہو گی نا اور

تمہارے سے بعد میں کوئی جھگڑا تو نہیں کرے گی میں نے کہا کہ میری بہن تو بہت اچھی ہے میری بہنیں واقعی بہت اچھی تھی میری دو بہنیں تھیں اور ہم میں کبھی لڑائی نہیں ہوئی تھی کیونکہ میں ان دونوں سے دس سال بڑی تھی۔ میں نے کہا کیا آئیڈیا بہت اچھا ہے میں اپنی بہن کو ہی دیورانی بنا سکتی ہوں اور اپنے ماں باپ کو بھی منا سکتی ہوں اور دیور کو بھی منا لوں گی کسی طرح لیکن دو دن کے بعد گھر میں کچھ ایسا ہوا کہ حیران رہ گئی مجھے میرے دیور کے کمرے

تمہارے سے بعد میں کوئی جھگڑا تو نہیں کرے گی میں نے کہا کہ میری بہن تو بہت اچھی ہے میری بہنیں واقعی بہت اچھی تھی میری دو بہنیں تھیں اور ہم میں کبھی لڑائی نہیں ہوئی تھی کیونکہ میں ان دونوں سے دس سال بڑی تھی۔ میں نے کہا کیا آئیڈیا بہت اچھا ہے میں اپنی بہن کو ہی دیورانی بنا سکتی ہوں اور اپنے ماں باپ کو بھی منا سکتی ہوں اور دیور کو بھی منا لوں گی کسی طرح لیکن دو دن کے بعد گھر میں کچھ ایسا ہوا کہ حیران رہ گئی مجھے میرے دیور کے کمرے

سے بلی کی آوازیں آ رہی تھیں جیسے بلی کافی زوردار آواز میں بول رہی ہو۔ میاؤں میاؤں کر رہی تھی۔ مجھے لگا کہ شاید ٹیرس کی طرف سے ہی آئی ہوگی کمرے میں میں نے اس بات پر زیادہ دھیان نہیں دیا روز مجھے اس کے کمرے سے بلی کی آواز آتی تھی وہ بھی ایک ہی وقت پر ایک دن تو میری آنکھ کھل گئی اور میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ جاکر اپنے بھائی کو کہو اس کو گھر سے نکال دے نیند نہیں آ رہی۔ دیوں کے دن تھے پنکھوں کی بھی آواز نہیں آتی

تھی ایسے میں بلی کی آواز اور زیادہ سنائی دیتی تھی اور نیند خراب ہوتی تھی اس گھر میں آکے میں بہت سکون پسند ہو گئی تھی کام کرنے کے لیے نوکرانیاں موجود تھی اور کسی بات کی کوئی فکر نہیں تھی اسی لیے خواب غفلت کی طرح سوتی تھی کہ صبح بارہ بجے سے پہلے آنکھ نہیں کھلتی تھی ایسے میں ہلکا سا شور بھی گراں گزرتا تھا۔ میرے شوہر نے کہا کہ اس نے کونسا خود بلائی ہوئی ہے جو میں اس کو جا کے کہوں جب اس کی نیند خراب ہو گی وہ خود ہی بلی کو بھگا دے گا

تم چھوڑو اور سو جاؤ۔ میرا شوہر اچھا تو بہت تھا لیکن ہر وقت کام میں مصروف رہتا تھا میری دوست کا کہنا تھا کہ اسے کام میں مصروف رہنے دو مرد کام کرتا ہوا ہی اچھا لگتا ہے مرد اگر عورت کے قدموں میں بیٹھ جائے اور صرف اس کو پیار محبت کرتا رہے پیسے نہ کمائیں تو ایسے مرد کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اس لیے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو یہ جو مردوں عورتوں کے سر پر سوار ہو جاتے ہیں نہ یہ بھی بہت برے لگتے ہیں

شروع شروع میں یہ سب کچھ اچھا لگتا ہے لیکن پھر عورت تنگ آ جاتی ہے میری دوست کی ایک شادی ہو چکی تھی اور شادی ٹوٹ چکی تھی وہ کبھی کبھی بہت عقل کی باتیں کرتی تھی۔ میں اپنے گھر گئی اور اپنے امی ابو سے اس بارے میں بات کی انہوں نے کہا کہ دیکھو ابھی تو تمہاری بہن بھی پڑھائی کر رہی ہے اور تمہارا دیوار بھی میں نے کہا کہ ہاں بالکل لیکن منگنی کی رسم تو ہو جانی چاہیے میں اپنے شوہر سے بات کروں گی لیکن اس سے پہلے مجھے آپ لوگ

صائمہ سے بھی اس کی مرضی پوچھ لیں۔ میرے ماں باپ نے کہا کہ ہمیں کیا مسئلہ ہو سکتا ہے اور صائمہ تمہاری بہن ہے تم اسے اس کی مرضی پوچھ لو میرے ماں باپ ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو لڑکی سے اس کی مرضی نہ پوچھتے۔ انہوں نے مجھے سے بھی میری مرضی پوچھی تھی مجھے میرے شوہر کی تصویر دیکھی تھی میرا شوہر شکل و صورت کا اچھا تھا اور سب سے زیادہ بات میں یہی دیکھی تھی کہ وہ امیر ہے۔ میں اپنے گھر والوں کو بتایا کہ میرے دیور

نے یہاں پر ایک سال کی پڑھائی پوری کرنے کے بعد باہر کے ملک چلے جانا اور میں چاہتی ہوں کہ جانے سے پہلے منگنی یا نکاح کی رسم ہو جائے میں اپنے شوہر سے بات کر لوں گی میں نے اپنی بہن سے بھی بات کی اس نے کہا کہ مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے وہ بھی میری طرح سمجھدار تھی اسے بھی پتہ تھا کہ مرد کی صرف کمائی دیکھی جاتی ہے اس کے بعد میں نے اپنے شوہر سے بات کی اس نے بھی کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے وہ تو ہمارے گھر کی بچی ہے اگر وہ اس گھر

میں آجائے گی تمہیں بھی سکون رہے گا سب۔ بالکل سیٹ تھا میں بہت زیادہ خوش تھی کہ پر ایک دن میں ایسا منظر دیکھا کہ میں حیران رہ گئی اور بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو گئی دراصل آج کافی عرصے بعد دھوپ نکلی تھی میں ڈھیر سارے فروٹ لے کر باہر لان میں بیٹھی تھی میرا دیور بھی وہاں آکر بیٹھ گیا میں نے کہا کہ اس کے ساتھ تھوڑی دوستی بڑھانی چاہیے تھوڑی بات چیت کرنی چاہیے کیونکہ جلد ہی اس سے اس کی شادی کی بات کرنے والی ہوں وہ

مجھے بہت عزت دیتا تھا کہ بڑی بھا بھی تو ماں کی جگہ ہوتی ہے۔ میں اس کے ساتھ مذاق کرنے لگیں جب اچانک اس کے پاس سے ایک بلی گزری شاید یہ وہی تھی جو رات کو اس کے کمرے میں آتی تھی اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتی کہ یہ تو وہی ہے جو ہر رات تمہارے کمرے میں آ جاتی ہے اور تم اتنی گہری نیند سوئے رہتے ہو کہ تمہیں پتہ ہی نہیں چلتا اور میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی میرے دیور نے بری طرح کھانسنا اور چھینکنا شروع کر دیا۔ میں نے کہا کہ کیا

ہو گیا تمہیں طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری اس کی چھینکیں تو رک نہیں رہی تھی وہ کہنے لگا بھا بھی مجھے بلی سے الرجی ہے۔ بلی میرے پاس سے گزر جاتی ہے تو میری ایسی حالت ہو جاتی ہے یہ کہہ کر وہ فورا وہاں سے چلا گیا اس نے کہا کہ مجھے فوراً جا کر نہانا ہوگا اور اپنی دوائی کھانی ہوگی میں نے کہا ٹھیک ہے تم چلے جاؤ اس کی حالت واقعی بہت بری ہو گئی تھی اس سے بات بھی نہیں کی جا رہی تھی اسے 3 تین سیکنڈ کے وقفے کے بعد چھینکیں آرہی تھی۔ لیکن میں نے یہ سوچ

کے حیران تھی کہ اگر اس کو بلی سے الرجی ہے تو پھر رات میں اس کی حالت ایسی کیوں نہیں ہو جاتی ہر رات اس کے کمرے سے بلی کی آوازیں کیوں آتی ہے اور جب بلی کی آواز آتی ہے تو اس کے بعد اس کے چھینکنے اور کھانسنے کی آواز نہیں آتی میں نے یہ بات اپنے شوہر سے کی تو میرے شوہر نے کہا کہ تمہیں میں نے کہا تھا کہ حسن سے شادی کی بات کرو تم بلی اور جھینگوں کو لے کر بیٹھ گئی ہو میں نے کہا کہ ٹھیک ہے میں بات کرتی ہوں میرے شوہر نے

اس معاملے میں زیادہ دیسی نہیں لی میں نے اپنے دیور سے اگلے دن بات کی میرا شوہر بھی ساتھ ہی بیٹھا تھا میرے دیور نے ایسی شکل بنائی کہ جیسے ہم نے اس سے اس کے دونوں گردے مانگ لیے تھے اس نے کہا کہ بھائی میں تو ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا ہم نے کہا کہ شادی نہیں کر رہے تمہاری صرف منگنی کروائیں گے یا پھر نکاح کی رسم دیسے آجکل حالات بڑے خراب ہیں اور منگنی تو وہاں کی جاتی ہے جہاں لوگوں کا پتہ نہیں ہوتا یہ تو گھر والی بات ہے بھابھی کے گھر

والے ہی ہیں اپنی بھابی کو دیکھ لو۔ اس میں بھلا کوئی کمی ہے اس کی بہن بھی اسی لیے میں نے کہا کہ وہ مجھ سے زیادہ خوبصورت ہے میں اور میرا شوہر بہت ہی خوشگوار انداز میں بات کر رہے تھے ہم نے کہا کہ ہم تمہارا نکاح کروا دیں گے پھر جب تم واپس آؤ گے تو تمہاری اور میری بہن کی شادی کروا دی جائے گی اتنے میں اس کی پڑھائی بھی مکمل ہو جائے گی۔ ہم لوگوں نے تو پورا پلان بنا دیا لیکن میرے دیور کی شکل سے لگ رہا تھا کہ وہ اس حساب سے خوش نہیں ہے اس

نے کہا کہ میں شادی نہیں کرنا چاہتا ہوں بالکل بھی اور اس لڑکی سے تو بالکل بھی شادی نہیں کروں گا جب اس نے یہ بات کی تو میں حیران رہ گئی میں نے کہا کہ ان میں کیا خرابی ہے اس نے کہا کہ بھابھی مجھے آپ کی بہن سے شادی نہیں کرنی مجھے اس سے شادی کرنی ہے جس کو میں پسند کروں گا ہم نے کہا کہ تم کسی کو پسند کرتے ہو اس نے کہا کہ نہیں لیکن جب مجھے کوئی لڑکی پسند آئے گی میں اس سے شادی کروں گا میرے ماں باپ نہیں ہے مجھے روکنے والا کوئی نہیں

ہے پھر میں کیوں زمانے کا پریشر لوں مجھے اپنی مرضی کرنے کا پورا حق ہے میں نے میرے شوہر کی طرف تو وہ خاموش ہو گیا میرے دیور نے کہا مجھے آپ کی بہن اچھی نہیں لگتی ہے مجھے اس میں اپنی مستقبل کی بیوی نظر نہیں آتی ہے وہ وہاں سے چلا گیا میں نے اپنے شوہر کو کہا کہ دیکھیں اس نے کیا حرکت کی ہے آپ اس کو سمجھا نہیں سکتے انہوں نے کہا کہ دیکھو وہ لڑکا ہے لڑکی نہیں ہے اگر وہ اپنی مرضی کرنا چاہتا ہے تو میں اسے روک نہیں سکتا میں اس کا بھائی ہے

اس کا باپ نہیں ہوں میں اس کو حکم نہیں دے سکتا اور تمہاری تصویر بھی میں نے تمہیں پسند کرنے کے لئے ہی منگوائی تھی مجھے تم پسند آئی اسی لیے میں نے تم سے شادی کی اگر اسے تمہاری بہن پسند نہیں ہے تو ہم اس پر زبردستی کیوں کریں میں نے کہا کہ میری بہن میں کیا خرابی ہے اس نے کہا کہ دنیا میں بہت سے لوگ خوبصورت ہوتے ہیں لیکن ہمارے دل کو صرف ایک ہی چہرہ خوبصورت لگتا ہے اگر اس کی مرضی نہیں ہے اس کو پریشان نہیں کرو تم بھی دوبارہ

اس سے یہ بات نہیں کرنا۔ میرے شوہر نے تو معاملہ ختم کر دیا لیکن معاملہ اتنا سیدھا نہیں میں بہت زیادہ پریشان تھی میرا تو سارا پلان خراب ہو رہا تھا لیکن میرا دیور ایسا کیوں کرتا تھا اگلے دن میں بہت زیادہ پریشان غصے میں تھی جب پھر سے میرے دیور کے کمرے سے بلی کی آواز آنے لگی لیکن اس کے بعد اس کے کھانسنے کی آواز نہیں آئی میں نے شوہر کی طرف دیکھا تو وہ سکون سے سو رہا تھا آج مجھے ویسے ہی غصہ آیا ہوا تھا سوچا دیکھوں تو سہی کہ یہ

کون سی بلی ہے جو روز میرے دیور کے کمرے میں آتی ہے مجھے بے حد غصہ آیا ہوا تھا میں اٹھی اور کے کمرے کی طرف گئی اور میں نے دیکھا کہ کھڑ کی کھلی ہوئی تھی میں نے کھڑکی سے اندر جھانکنے کے بارے میں سوچا ویسے یہ کوئی اچھی حرکت نہیں تھی اور میرا شوہر مجھے دیکھ لیتا تو وہ بھی غصہ کرتا کہ تمہارا یہاں پر کیا کام ہے تم کیوں میرے جوان بھائی کے کمرے میں جھانک رہی ہوں لیکن مجھے حقیقت جان کر ہی رہنی تھی کیونکہ میرے دل میں ایک

شک آ گیا تھا۔ اور مجھے اپنا شک دور کرنا تھا کیونکہ دیور نے جب سے میری بہن کے ساتھ شادی کرنے سے انکار کیا تھا مجھے ویسے ہی اس پر غصہ آگیا تھا میں چاہتی تھی کہ اگر وہ کچھ غلط کر رہا ہے تو مجھے اس کے بارے میں فورا پتہ چل جائے تاکہ اس کے بھائی کو بتا سکوں کہ وہ کس طرح کا انسان ہے کیونکہ جب سے اس نے انکار کیا تھا اس کے بعد سے اب میں اُسکی عزت نہیں کر سکتی تھی اور یہی کر سکتی تھی کہ اس کے بھائی کو اس کے خلاف بھڑ کاوں یہی میرا

بدلہ لینے کا طریقہ تھا میں نے کھڑکی سے جھانکا تو سامنے کا منظر دیکھ کر حیران رہ گئی کیوں کہ کمرے میں کوئی بلی نہیں تھی یہ تو مجھے شاید اتنی دور سے پتا نہیں چلتا لیکن یہ دیکھ کر میں حیران تھی کہ بلی کے علاوہ اگر کوئی اور تھا تو وہ تھی ایک لڑکی جو وہاں موجود تھی اور جی ہاں ایک لڑکی میں نے شور ڈال دیا اور وہ دونوں بھی چونک گئے لیکن جب کمرے کو کھولا تو وھاں پر کوئی لڑکی نہیں تھی میرے شوہر کو لگا کہ مجھے وہم ہوا ہے میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ میں

نے اپنی آنکھوں سے لڑکی دیکھی ہے میں نے کہا اسکو کہیں اپنے مرے ہوئے ماں باپ کی قسم کھا کے کہو کہ یہاں پہ کوئی لڑکی نہیں تھی اس بات پر دیور نے سر جھکا لیا اور میرے شوہر کو بھی سمجھ آگئی کہ اب یہ بات بالکل سچ ہے اور میری بیوی نے جو دیکھا وہی بیچ تھا اس نے بتایا کہ اس نے ایک لڑکی سے شادی کر رکھی ہے اور وہ رات ہو تے ہی کمرے میں آ جاتی ہے نیچے گلی میں ہی رہتی ہے اور میاؤں میاؤں کی آواز وہی لڑکی نکالتی ہے یہ کہنے کے لئے کہ

بالکونی کا دروازہ کھول دیا جائے تاکہ وہ اندر آ جائے اور ہم حیران رہ گئے اور اس نے کہا کہ تم نے شادی بھی کرلی۔ شرم نہیں آئی کون ہے وہ لڑکی میرے دیور نے کہا کہ دراصل وہ ایک بیوہ ہے اور اس کے تین بچے بھی ہیں لیکن اس کا شوہر اسے بہت مارتا تھا اور پھر ایک دن وہ اس کو اس بھری دنیا میں اکیلا چھوڑ گیا ایک روز میری اس سے ملاقات ہوئی تو مجھے کو یہ پسند اگئی اور میں نے اس سے شادی کرلی میرے شوہر نے اپنے بھائی کو کہا کہ اس چالاک

لڑکی نے تجھ کو اپنی باتوں میں الجھا کر شادی رچالی، اور تو نے بیوہ سے شادی کرلی جس کے تین بچے بھی ہیں اور عمر میں بھی کچھ زیادہ ہے تجھے شرم نہیں آتی اس کے ساتھ یہ سب کرتے ہوئے سامنے آتے جاتے دیکھ لیا تو لوگ ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے بلکہ ابھی بھی لوگ ہمارے بارے میں کیا ھی سوچ رھے ھوں گے اگر اتنی ہمت کر ہی لی تھی تو پھر سب کے سامنے قبول بھی کرتا تھا۔ مرد بننے کا شوق تھا تو پھر مرد بن کر بھی دکھانا تھا۔ میں نے

اپنے شوہر کو کہا کہ آپ اس کو یہ تلقین کر رہے ہیں کہ وہ اس عورت کو گھر لے آئے کیا اس کے بعد ہماری بے عزتی نہیں ہوگی میرے شوہر کا کہنا تھا کہ اگر یہ اسی طرح چھپ کر ملتے رہے تو ہماری زیادہ بے عزتی ہوگی ۔ میرے شوہر نے دیور کو کافی ساری باتیں سنائیں اور اگلے دن ہی وہ جا کہ اس لڑکی کو گھر لے آیا اس کو دیکھ کر ہم حیران رہ گئے وہ تین بچوں کی ماں نہیں لگتی تھی لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ تھی کہ اس کی زندگی میں یہ سب کچھ ہو چکا

تھا۔ اب وہ بھی ہمارے ساتھ رہتی ہے لیکن دونوں بھائیوں نے اپنے پورشن الگ کر لیے ہیں اس سے زیادہ مسئلہ نہیں ہوتا ہے۔ سب اپنی اپنی زندگی جیتے ہیں اس لئے زیادہ پریشانی کی بات نہیں ہے لیکن جو کچھ بھی ہوا ٹھیک نہیں ہوا کیونکہ لوگوں کی باتیں آج بھی ہمیں سننا پڑتی ہیں۔۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.