کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملکہ وزیر کو اپنے کمرے میں لے گئی

یک بادشاہ نے طوطا پال رکھا تھا ۔ وہ طوطا بادشاہ کا بہت وفادار تھا اور بادشاہ سے انسانوں کی طرح باتیں کرتا تھا ۔ ایک دن بادشاہ ایک سفر پر روانہ ہوا تو ملکہ نے بادشاہ کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وزیر کو اپنے کمرے میں بلوایا ۔ جب وزیر کمرے میں داخل ہوا تو ملکہ نے کہا کہ میں بہت عرصے سے انتظار میں تھی کہ تم سے اپنے دل کی بات کہوں اور پھر کہنے لگی کہ میں تمہیں بہتپسند کرتی ہوں اور تجھ سے ہی شادی کرنا چاہتی ہیں

مگر بادشاہ کو راستے سے ہٹانا تمہارا کام ہے ۔ وزیر دل ہی دل میں بڑا خوش ہوا اور کہا کہ بادشاہ کو میں راستے سے میں ہٹا دونگا ۔ بادشاہ کا طوطا یہ سب باتیں سن رہا تھا جب بادشاہ واپس آیا تو طوطے نے سب کچھ بادشاہ کو بتا دیا ۔ بادشاہ کو شدید غصہ آیا اور وہ سیدھا ملکہ کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ سچ سچ بتاؤ ورنہ ابھی تجھے زمین میں زندہ دفنکر دوں گا ۔ ملکہ نے کہا کہ آپ کا طوطا مجھوٹ بول رہا ہے ، بادشاہ نے کہا کہ یہ طوطا میرا محسن ہے میں ہامون بادشاہ کی طرح احسان فراموش نہیں ہوں ۔

ملکہ نے پوچھا کہ ہامون بادشاہ کون ہے ، بادشاہ نے کہا کہ ہامون بادشاہ کو ایک جلد کی عجیب سی پیاری لگ گئی تھی ۔ پوری سلطنت میں اس کا علاج کوئی نہ کر سکا پھر ایک حکیم نے اپنے علم سے اس کا علاج کیا اور بادشاہ کیجلد مکمل طور پر ٹھیک ہوگئی ۔ اس بادشاہ نے حکیم کو بہت سارے انعامات سے نوازا تو بادشاہ کا وزیر حکیم سے حسد کرنے لگا اور کہا کہ بے شک حکیم نے آپ کا علاج کیا ہے مگر یہ وقتی طور پر عارضی علاج ہے اور یہ حکیم ایک جاسوس ہے جو ہمارے ملک میں جاسوسی کرنے آیا ہے ۔ پھر بادشاہ نے فورا حکیم کا سر قلم کرنے کا حکم دیا ۔ حکیم نے کہا کہ اگر آپ نے مجھے مارنے کی ٹھان ہی لی ہے تو ،

میری آخری خواہش پوری کی جاۓ ۔ بادشاہ نے کہا کون سی خواہش , حکیم نے کہا کہ مجھے مارنے کے بعد میری کھوپڑی کو اپنے سامنے رکھ لینا اور میری کتاب کا صفحہ نمبر ایک سو میں پڑھنا ۔ حکیم کی آخری خواہش پوری کی گئی اور بادشاہ نے اس کی کھوپڑی اپنے سامنے رکھ کر اس کتاب کا صفحہ نمبر ایک سو بیں پڑھنے لگا مگر وہ صفحہ چیکا ہوا تھا ۔ پھر بامون بادشاہ نے اپنی لعب دہن سے اس صفحے کو کھولنے کیکوشش کی کتاب کے صفحے پر لگی زہر نے بادشاہ کو تکلیف میں ڈال دیا اور وہ تڑپنے لگا ۔

پھر اس کھوپڑی سے آواز آئی کہ میں تمہارا محسن تھا اور ایک موذی مرض سے تم کو نجات دی مگر تم نے مجھے مار ڈالا اب یہی تمہارا انجام ہے ۔ ملکہ نے جب یہ ساری کہانی سنی تو کہا کہ اے بادشاہ سلامت میں یہ ثابت کروں گی کہ آپ کا یہ طوطا مجھوٹ بولتا ہے ۔ یہ کہہ کر ملکہ نے ایک چال چلی ۔ اس نے اپنی ایک کنیز کو کہا کہ آج ساری رات تم طوطے کے

اوپر تھوڑا تھوڑا پانی ڈالتی رہنا اور دوسری کنیز سے کہا کہ تم ساری رات طوطے کے نیچے بیٹھ کر چکی چلاتی رہنا ۔ جب صبح ہوئی تو ملکہ نے کہا بادشاہ سلامت رات موسم کیسا تھا ۔ بادشاہ نے کہا کہ موسم تو بالکل صاف تھا ۔ پھر ملکہ نے کہا کہ اپنے طوطے سے پوچھ لیجیے کہ رات موسم کیسا تھا ۔ جب بادشاہ نے اپنے طوطے سے پوچھا میاں مٹھو رات موسم کیسا تھا تو طوطے نے کہا کیا بتاؤں ، ساری رات بارش ہوتی رہیاور بادل گرجتے رہے ۔

ملکہ کی چال کامیاب رہی اور بادشاہ نے اپنے طوطے کو جھوٹا سمجھ کر مار دیا ۔ کچھ دنوں بعد یہ بات ثابت ہو گئی کہ ملکہ اور وزیر کا کوئی چکر چل رہا ہے اور بادشاہ نے ان دونوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ۔ پھر بادشاہ نے اپنے جوتے اتارے اور اپنے ہی سر میں مار کر کہا افسوس کہ مجھ میں اور ہامون بادشاہ میں کوئی فرق نہ رہا اور میں بھی احسان فراموش رہا ۔ اس کہانی سے ہمیں یہ اخلاقی سبق ملتا ہے کہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالی کے ہم پر بہتملتا ہے کہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالی کے ہم پر بہت سارے احسانات ہیں جن کا شمار کرنا بھی ناممکن ہے کیا ہم بھی احسان فراموش تو نہیں ہیں ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *