گھٹیا دوکاندار کا انجام

میرا گھر بازار کے ساتھ تھا اور بازار کے نکر پر ایک آدی کے میکپ کرنے والی اشیاء کی دکاری تھی ۔ وہ دکاندار دار بہت چالاک اور عشق مزاج انسان تھا ۔ اس دکاندار کے ایک بہت بری عادت تھی کہ جب بھی کوئی خوبصورت لڑکی یا عورت اس کے پاس میکپ کاسامان خریدنے کے لیے جاتی

تو وہ سامنے رکھے ہوئے ریزر پر بار بار ہا تھلگانا اور لڑکیوں کو عجیب و غریب نظروں سے دیکھا اور جو چیز لڑکیاں مانگتی تو انہیں ایسی اشیاء د کھاتا جن پر لڑکیوں کی تنگ کپڑوں والی تصویر میں بنی ہوتی اور وہ اجے تنگ کپڑوں والی لڑکیوں کی تصویروں کے جسم پر ہا تھ پھیرتا اور عجیب و غریب ہنسی ہنستا اس دکاندار کی اس عادت سے عور تیں بہت تنگ ہو گئی تھیلیکرج وہ دکاندار یہ حرکات اس لئے کرتا تھا کیو نکہ وہ جانتا تھاکہ اس چھوٹے سے بازار میں صرف یہی میکپ کیے اشیاوالی دکاج تھی اور اس کے علاوہ اپنی چیز میں ستے داموں بیچپاتا کہ عور تیں اور لڑکیاں اس کی دکان پر آئیں۔

اکثر اوقات عور تیں اور لڑکیاں بغیر کچھ خریدے ی وہاں سے چلے جاتی لیکن جو لڑکیاں اس قسمہوتی وہ دوکاندار ان کو فری میں میکپ کاسامان دے کر اپناکام کر لیتا ۔ اس محلے کی بہت کیے عور تیں اس دکاندار کی اس عادت سے بہت تنگ ہو چکی تھیں۔جب بھی کوئی عورت جاتی تواج کے سامنے بریزر کے اوپر بار بار ہاتھ لگاتا اور گندی گندی مسکراہٹ نکالتا اور وہ چیز میں سامنے رکھتا جن پر لڑکیوں کے نگی تصویر میںبنی ہوتی ۔ ہمارے محلے کی دوسری کرلہ پر ایک عورت کا گھر تھا وہ عورت بیوہ تھیں لیکن اس کی عمر تیس سال تھی اس عورت کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ یہ کوئیے 18 سال کے نوجوان لڑکی ہے لیکن

اس کا حسن قدرتی تفاس نے کبھی اپنے زندگی میں کوئی میکپ والی اشیاء نہیں لگائی لیکن جب اس عورت نے تماممحلے کی عورتوں سے اس دکاندار کے بارے میں سناتو اس نے بھی دکاندار سے وہ چیزیں خریدنے کا فیصلہ کیا اور یہ جاناچاہا کہ کیا واقعی وہ دکاندار ایسا کرتاہے یا ہمارے محلے کیے عور تیں جھوٹ بولتی ہیں ۔۔۔۔ ایک دن وہ دو پہر کے وقت اس فکر والی دوکان پر میک آپ کی اشیاء خریدنے کے لیے گئی ابھی اس وقت بازار میں لوگوںکی تعداد بہت کم تھی دکاندار گاہک کے انتظار میں بیٹھا تھا جیسے ہی وہ عورت اس کے دکان میں داخل ہوئے اس نے وہی عادت دہرانا شروع کر دی تاکہ اس عورت کو اپنے جال میں پھنسالے

اور حتی کہ اکیلا پاتے ہوۓ اپنی گندی خواہش کو پورا کرنے کا بھی کہہ دیا اس عورت کو بڑاغصہ آیا لیکن اس وقت وہ خاموشی,سے گھر چلی آئے لیکن جب اس نے دیکھا کہ بازار میں لوگوں کا ہجوم لگا ہوا ہے تو ای اپنے گھر سے ایک استعال شدہ بریزر کر اس کے دکان میں داخل ہوئی اور اس دوکاندار کو کہا کہ اس کے برابر سائز اور اس کے برابر رنگ کا مجھے بریزر دے دو ۔ جیسے اس دو نکاندار نے اس بریزر کو اپنے ہاتھ میں لیا تو اس عورت نے بازارمیں شور مچانا شروع کر دیا ۔ اس لڑکی کیے شور سے تمام بازار کے دکاندار اور تمام بازار میں موجو دلوگ اس دکاندار کی دکان پر اکٹھے ہوگئے۔لوگوں نے اس سے پوچھاکہ تم شور کیوں مچا رہی ہو تو اس نے کہا کہ اس نوجوان نے میرے سینے میں ہاتھ ڈال دیا ہے اور جب میں اس سے دور ہونے کیے کوشش کی تو میرا بریزر ٹوٹگیا اور اس کے ہاتھ میں رہ گیا ۔

جب لو گوں نے اس کے کے ہاتھ میں موجود ریزر کو دیکھا تو وہ ٹوٹا ہوا تھا تو لوگوں نے اس وقت اس دکاندار کو گھسیٹ کر بازار کے در میان لے گئے اور مار مار کر اس کی دھرگت بنادی کے بعد وہ دکاندار اس عورت سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے لگا اور کہا کہ تم میری جان بخش دو آج کے بعد کسی عورتکے ساتھ ایسی گندی حرکت نہیں کروں گا ۔ دوستو ہمیں اس واقعہ سے اخلاقی سبق ملتا ہے ہے کہ کہیں بھی اگر جرم ہورہا ہے یا کوئی غلط کام ہورہا ہے تو ہمیں اپنے حصے کیے ذمہ داری ضرور نبھانی چاہیے اور اس غلط کام کو روکنے کے لئے اپنے حصے کی ضرور کو شش کرنی چاہیے آۓے اگر اس محلے کیے تمام عور تیں مل کر اسےآدمی کو سبق سکھا نا چاہتی تو یہ نوبت نہ آتی لیکن اس پورے محلے میں صرف ایک عورت نے ہی اس کو سبق سکھانے کا ٹھان لیا اور اس کو کو سبق سکھا کر دکھایا

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.